شاہ اسماعیل نے اپنے وعظوں کو محراب ومنبر ہی تک محدود نہ رکھا بلکہ وہ گلی کوچوں، میلوں ٹھیلوں اور بازاروں میں پہنچ جاتے، وہاں لوگوں کو پند ونصیحت کرتے۔ جامع مسجد کی سیڑھیاں جہاں روزانہ بازار لگتا تھا وہاں اچھا خاصا ہجوم تھا۔ یہ سیڑھیاں تو مرکزی دار الارشاد کی حیثیت اختیار کرگئی تھیں، اسی دار الارشاد کا ایک واقعہ ہے کہ شاہ اسماعیل انہی سیڑھیوں پر کھڑے وعظ کررہے تھے کہ ایک ہیجڑے کا ادھر سے گزر ہوا۔ وہ وعظ سننے کے لۓ رک گیا۔ اس کے ہاتھوں میں مہندی لگی تھی، بانہوں میں چوڑیاں، پاؤں میں جھاجھن اور سرخ جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا۔ شاہ اسماعیل نے جب اسے دیکھا تو اسے خطاب کرتے ہوۓ وعظ شروع کردیا۔ اس ہیجڑے کا یہ عالم ہوا کہ اس نے وہیں کھڑے کھڑے چوڑیاں توڑ ڈالیں، زیور اتار پھینکے اور ہاتھوں سے مہندی کی لالی مٹانے کے لۓ اس زور سے سیڑھیوں پر ہاتھ رگڑے کہ ہاتھوں سے خون بہنے لگا۔ جب وعظ ختم ہوا تو توبہ کی اور شاہ اسماعیل کے حلقے میں شامل ہوگیا۔ یہی ہیجڑا جہاد میں شاہ اسماعیل کے ہمراہ گیا اور شہید ہوا۔
- بحوالہ گلہاۓ رنگارنگ - مولوی ثناء اللہ شجاع آبادی حفظہ اللہ