اپنے دین پر غیرت کرنے والے ہر مسلمان کو چاہیۓ کہ مدارس کے معاملے کو اپنے قومی، خاندانی، سیاسی اور دیناوی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر دیکھے۔ مدارس کے امور میں کی جانے والی یہ دخل اندازی اللہ سبحانہ وتعالٰی کے دین کے مقابل، امریکا کا من پسند ایک Politically Correct دين کے ایجاد کی کوشش ہے۔
حضرت مولانا ابو عمار زاہد الراشدی مد ظلہ کا دو سال پرانا مضمون،مغرب پرست تنظیموں کا حدود آرڈنینس کے خلاف واویلا۔ بشکریہ الأحناف۔
خوبرویوں سے ملا کرتے تھے میر
اب ملا کرتے ہیں اہل اللہ سے
مت کرے تحقیر کوئی میر کی
رابطہ رکھتے ہیں اب اللہ سے
مسلمان قیدیوں کے حقوق کے متعلق جامعہ بنوریہ (سائٹ کراچی) کا فتوٰی
حضرت شیخ التفسیر مولٰینا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تعالٰی پچلھی صدی کے بڑے اولیاء اللہ میں سے تھے۔ آپ کے درس قرآن میں شرکت کے لۓ طالبانِ علمِ دین دور دراز سے سفر کرکے پہنچتے تھے۔ آپ مجاہد في سبیل الله تھے، آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف صداۓ حق بلند کی اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کئیں۔ آپ ایک صاحبِ کرامات صوفی شیخ تھے، قادریہ- راشدیہ سلسلۂ تصوف میں حضرت مولٰینا غلام محمد دین پوری اور حضرت مولٰینا تاج محمود امروٹی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے خلیفہ تھے۔
مکتبہ اشرفیہ نے آپ رحمہ اللہ تعالٰی کی سوانح حیات پر مشتمل ایک مختصر کتاب شائع کی ہے۔ پڑھیۓ اور مجھے دعا دیجیۓ؛
امام العلماء، رأس الاتقیاء، مجاہد فی سبیل اللہ، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تعالٰی
مشرف نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟ لادینیت، عریانیت، مہنگائی اور بے روزگاری
٢٠ مارچ ملین مارچ میں جاؤ؛ مشرف مکاؤ
مزار قائد تا ٹاور
انگریز فلسفی جیریمی بینتھم ١٧٣ سال سے یونیورسٹی کالج لندن کی الماری میں تشریف فرماء ہیں
شاہ اسماعیل نے اپنے وعظوں کو محراب ومنبر ہی تک محدود نہ رکھا بلکہ وہ گلی کوچوں، میلوں ٹھیلوں اور بازاروں میں پہنچ جاتے، وہاں لوگوں کو پند ونصیحت کرتے۔ جامع مسجد کی سیڑھیاں جہاں روزانہ بازار لگتا تھا وہاں اچھا خاصا ہجوم تھا۔ یہ سیڑھیاں تو مرکزی دار الارشاد کی حیثیت اختیار کرگئی تھیں، اسی دار الارشاد کا ایک واقعہ ہے کہ شاہ اسماعیل انہی سیڑھیوں پر کھڑے وعظ کررہے تھے کہ ایک ہیجڑے کا ادھر سے گزر ہوا۔ وہ وعظ سننے کے لۓ رک گیا۔ اس کے ہاتھوں میں مہندی لگی تھی، بانہوں میں چوڑیاں، پاؤں میں جھاجھن اور سرخ جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا۔ شاہ اسماعیل نے جب اسے دیکھا تو اسے خطاب کرتے ہوۓ وعظ شروع کردیا۔ اس ہیجڑے کا یہ عالم ہوا کہ اس نے وہیں کھڑے کھڑے چوڑیاں توڑ ڈالیں، زیور اتار پھینکے اور ہاتھوں سے مہندی کی لالی مٹانے کے لۓ اس زور سے سیڑھیوں پر ہاتھ رگڑے کہ ہاتھوں سے خون بہنے لگا۔ جب وعظ ختم ہوا تو توبہ کی اور شاہ اسماعیل کے حلقے میں شامل ہوگیا۔ یہی ہیجڑا جہاد میں شاہ اسماعیل کے ہمراہ گیا اور شہید ہوا۔
- بحوالہ گلہاۓ رنگارنگ - مولوی ثناء اللہ شجاع آبادی حفظہ اللہ
اللہ سبحانہ وتعالٰی ہم سب کو اس سال کی خیر وبھلائی میں بھرپور حصہ عطا فرمائیں اور اس کے شر سے ہمیں محفوظ فرمائیں۔ اللهم آمین
بندہ ہوں ترا، اے اللہ مری سن
فرمادے مرے مقصدِ قلبی کیلۓ کن
ہر غیر کو دل سے مرے معدوم ہی کردے
سب بھول کے لگ جاۓ بس اِک دل کو تری دھن
حضرت بابا نجم احسن {خلیفہ حضرت مولٰینا شاہ عبد الغنی پھولپوری خلیفہ حضرت حکیم الامۃ ومجدد الملۃ مولٰینا اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ تعالٰی}
مولوی زین العابدین صاحب حفظہ اللہ
مولوی زیاد ہاشمی صاحب حفظہ اللہ، جو کہ فراغت کے بعد صحافت میں بی اۓ کر رہے ہیں
حضرت شیخ الإسلام مولٰینا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کے ایک خلیفہ کا ویب لاگ
گزشتہ ہفتے بیجنگ میں آسیان ریجنل فورم کے ٢٤ (چوبیس) ارکان ممالک کے تقریباً ایک سو فوجی حکام کی ایک تین روزہ کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا موضوع اس فورم کے ارکان ممالک والے علاقے میں سلامتی کی کسی اجتماعی پالیسی پر غور کرنا تھا۔ اس کانفرنس کے شرکاء نے راۓ ظاہر کی کہ تمام متعلقہ ممالک کی مسلح افواج کو بین الاقوامی قوانین کے تجویز کردہ خطوط کے مطابق دہشت گردی کو روکنے اور اس کے خلاف لڑنے کے لۓ اپنے رابطوں اور تعاون کے قرینوں کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہۓ۔ اس کانفرنس میں پاکستان بھی شریک ہوا۔ اس کانفرنس میں طے پایا کہ دہشت گردی، سرحد پار جرائم، منشیات کی نقل وحمل اور چھوٹے ہتھیاروں کے سرحد پار لانے لے جانے کے خطرات سے نمٹنے کے لۓ تعاون بڑھایا جاۓ۔ اور پڑھئیے ………
جب نیا چاند دیکھے؛
اللهم اهله علينا باليمن والايمان والسلامة والاسلام والتوفيق لما تحب وترضى ربي وربك الله
یا اللہ نکالنا اس چاند کو ہم پر ساتھ برکت اور ایمان کے اور خیریت اور اسلام کے اور اعمال مرعوبہ اور پسندیدہ کی توفیق کے۔ رب میرا اور رب تیرا اے چاند اللہ ہے۔
{مناجات المقبول - حضرت حکیم الامة ومجدد الملة مولٰینا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ}
یہ بہت پیارا وعظ ہے، جسے میں کئی دفع سن چکا ہوں۔ اور اب الحمد للہ یہ وعظ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی ویب سائٹ سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ "ذکر مقبول کی تفسیر" سے کیا مراد ہے؟ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالٰی نے متقین کی علامات میں فرمایا ہے؛
{اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم - بسم اللہ الرحمٰن الرحیم}
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَى مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ - سورة آل عمران ١٣٥
"اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھیں کچھ کچھ کھلا گناہ یا برا کام کریں اپنے حق میں، تو یاد کریں اللہ کو اور بخشش مانگیں اپنے گناہوں کی۔ اور کون ہے گناہ بخشنے والا سوا اللہ کے۔ اور اَڑتے نہیں {اسرار نہیں کرتے} اپنے کۓ پر اور وہ جانتے ہیں۔"
(ترجمہ حضرت شیخ الہند مولٰینا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ)
تو اس میں جو آیا ہے کہ گناہ کرنے کے بعد اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اسے یاد کرتے ہیں، اس وعظ میں اس "ذکر مقبول" کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔
اس وعظ میں، اللہ سبحانہ وتعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقین صادقین، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
لوٹ آۓ جتنے فرزانے گۓ، تا بمنزل صرف دیوانے گۓ
مستند رستے وہی مانے گۓ، جن سے ہوکر تیرے دیوانے گۓ
پرسوں، ٨ جمادی الاولٰی ١٤٢٥ هـ کی شام حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ہم سب کو غمگین چھوڑ کر دارِ آخرت کی طرف کوچ کرگۓ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت رحمہ اللہ سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا۔ مولانا رحمہ اللہ نے یکے بعد دیگر قادیانیوں کے سربراہان مرزا محمود، مرزا ناصر اور مرزا طاہر کو دعوتِ مباہلہ دی۔ تینوں نے فرار کی راہ اختیار کی۔ حالانکہ اپنے لوگوں کے سامنے وہ خوب چیلنج بازی کرتے رہے مگر جب مولانا چنیوٹی رحمہ اللہ ان کے چیلنج قبول کرتے، تو قادیانی مباہلے میں آنے کی جرأت نہ کرسکتے۔ مرزا طاہر نے مولانا رحمہ اللہ کے بارے میں پیشنگوئی کی تھی کہ وہ ١٥ (پندرہ) ستمبر ١٩٨٩ء کو ہلاک ہوجائیں گے۔ اس پیشنگوئی کے غلط ثابت ہونے پر قادیانیوں کے عربی ماہنامہ «التقوى» کے چیف ایڈیٹر حسن بن محمود عودة قادیانیت سے تائب ہوکر مولانا رحمہ اللہ تعالٰی کے دست حق پرست پر اسلام لے آۓ۔ پچھلے سال اللہ تعالٰی نے مولانا چنیوٹی رحمہ اللہ کی زندگی ہی میں مرزا طاہر کو ہلاک کرکے قادیانیت کو دنیا میں مزید رسواء وذلیل کیا۔
آج روزنامہ اسلام کے اداریہ میں آپ رحمہ اللہ تعالٰی کی حیات طیبہ اور خدمات دینیہ پر ایک مختصر تحریر ہے۔ انشاء اللہ اس کو یہاں نقل کرؤں گا۔
ایک خوبصورت نعتیہ قطعہ
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں مجھ سے دولت جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
دنیا ہی میں رہ کر دنیا سے رغبت جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ کچھ بھی کہیں دنیا والے، اپنا تو عقیدہ ہے تابش
سرکارِ مدینہ کی دل میں عظمت جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
بزبانِ شاعر ڈاکٹر تابش مہدی سنۓ۔
بذریعہ روزنامہ اسلام (اردو)
کمانڈر نیک محمد میزائل حملے میں جاں بحق - شہادتیں امریکی حملے سے ہوئیں، قبائلی عمائدین
جنوبی وزیرستان وراولپنڈی……… حکومت کو مطلوب معروف قبائلی اور جہادی کمانڈر نیک محمد وانا کے نواحی علاقے ڈوگ میں میزائل حملے میں پانچ ساتھیوں سمیت شہید ہوگۓ۔ نیک محمد مقامی قبائلی شیرزمان کے گھر رات بسر کرنے کیلۓ آۓ تھے اور شہادت کے وقت سیٹلائٹ فون پر بات کررہے تھے۔ میزائل حملے میں قبائلی میزبان کے دو بیٹے عظمت اور زمان کے علاوہ نیک محمد کے تین ساتھی شاہ رخ خان اور مارس خان بھی شہید ہوۓ۔ وانا سے اسلام رپورٹنگ ٹیم کے مطابق میزائل حملہ جمعہ کی شب دس بجے کیا گیا جس میں مطلوب کمانڈر زخمی ہوۓ جنہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ شہید ہوگۓ۔ نیک محمد کی عمر صرف ستائیس سال تھی۔
بعد ازاں نیک محمد کے جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں "کلوشہ" لے جایا گیا جہاں پچیس ہزار سے زائد قبائلیوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ شہید کے جسم اور چہرے پر زخموں کے نشان تھے اور لہو رس رہا تھا۔ جنازے کے شرکاء انتہائی غم واداسی کی کیفیت میں تھے اور جم غفیر پر سکتے کی کیفیت تھی۔ کئی قبائلی پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ نماز جنازہ مولوی جان محمد نے پڑھائی، بعد ازاں شہید کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
کمانڈر نیک محمد کی کمین گاہ پر میزائل حملے سے قبل فضا میں ایک جاسوسی طیارے نے پرواز کی جس میں سے سفید روشنی کی لہر نکلی جس کے ٹھیک دو منٹ بعد میزائل فائر ہوا جو نیک محمد کے میزبان کے گھر پر جالگا۔ میزائل کی لمبائی تین فٹ اور موٹائی چھ انچ ہے۔ دریں اثناء ڈوگ میں پارگل خیل وزیر قبائل کے عمائدین نے الزام لگایا ہے کہ نیک محمد اور ان کے ساتھی امریکی میزائل حملے میں شہید ہوۓ۔ سدا نیوز کے مطابق ایک بین الاقوامی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوۓ قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ اس قسم کا میزائل کبھی پہلے نہیں داغا گیا اور یہ واقعہ دل کو ہلا دینے والا ہے۔
شہادت نیک محمد پر آرمی کی پریس رلیز
آئی ایس پی آر نے گزشتہ رات وانا میں ہونے والے میزائل حملے میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کو پناہ دینے والے حکومت کو انتہائی مطلوب نیک محمد کی موت کی باضابطہ طور پر تصدیق کردی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے جمعہ کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں شرپسند عناصر کی خفیہ پناہ گاہوں کے خلاف پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے، آپریشن کے دوران اسی طرح کے ایک خفیہ ٹھکانے میں نیک محمد اور اس کے ساتھیوں کی موجودگی کا علم ہوا جس کو سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایا جس میں نیک محمد مارا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ غیر ملکی عناصر سرنڈر کرنے کے لۓ حکومت کی جانب سے دی گئی ایمنسٹی کی پیشکش کا فائدہ اٹھائیں۔
کچھ دیر پہلے خبر ملی کہ وانا کے غیرتمند مجاہد رہنما کمانڈر نیک محمد کو شہید کردیا گیا۔ انّا للہ وانّا الیہ راجعون۔
مسلمین بھٹکل کی طرف سے علماء کرام، شیوخ ومفکرین کی تقاریر، حمد ونعت اور دیگر شاعرانہ کلام